ستائسویںآئینی ترمیم میں صوبائی خود مختاری کو چھیڑنا ملک کیلئے مسائل پیدا کر سکتا ہے، پی ٹی آئی مخالفت پر قائم ہے ۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا ہے کہ اگر 27ویں آئینی ترمیم میں صوبائی خود مختاری کو چھیڑا گیا تو ملک میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے اپنے قوانین ہیں اور وفاق کو ان میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ ابھی تک انہیں 27ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ موصول نہیں ہوا، اور 26ویں ترمیم کے ڈرافٹ کو بھی پیش نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اس ترمیم کی مخالفت کرے گی اور صوبائی خود مختاری کے تحفظ پر قائم رہے گی۔
انہوں نے پنجاب حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود عوام ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پارلیمان کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا استحقاق اس وقت تک نہیں جب تک دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہو، اور انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم سے وفاق اور صوبے دونوں متاثر ہوں گے۔
علاوہ ازیں، بیرسٹر گوہر نے سابق وزیراعظم عمران خان کی قید کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب کو دو سال سے زائد وقت سے قید میں رکھا گیا، ان پر کئی مقدمات قائم کیے گئے، لیکن عدالتوں کے فیصلے کے مطابق ہی ان کی رہائی ہوگی، کسی بھی ڈیل یا دباؤ کے تحت نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی اور جمہوریت کے لیے تحمل اور احتجاج کی پالیسی پر قائم ہیں، اور موجودہ تحریک بھی قانونی دائرے میں رہ کر چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نومبر میں کسی احتجاج کی کال ابھی جاری نہیں کی گئی اور پارٹی خان صاحب کی رہائی کے لیے متحرک ہے۔





