شمالی وزیرستان میں ایک مسافر وین حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 14 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق یہ حادثہ تحصیل غلام خان میں پیش آیا، جب وین تیز رفتار کے باعث الٹ گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق زخمی ہونے والے افراد شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوئے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حکام نے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ حادثہ شمالی وزیرستان میں بڑھتی ہوئی روڈ انسیڈینٹس کی ایک اور مثال ہے، جس نے سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان کی کارروائی ،پرائیویٹ کلینک سے جعلی ادویات برآمد
ڈپٹی کمشنر محمد یوسف کریم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے میرانشاہ بازار میں ایک اہم کارروائی کی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے تحصیلدار میرانشاہ غنی وزیر کے ہمراہ ایک نجی کلینک پر چھاپہ مار کر لاکھوں روپے مالیت کی جعلی ادویات برآمد کیں اور انہیں سرکاری تحویل میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق، یہ وہی کلینک ہے جہاں 18 ستمبر 2025 کو ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جو بغیر کسی رجسٹریشن اور مطلوبہ اسناد کے غیر قانونی طور پر طب کا پیشہ کر رہا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، کچھ عرصہ قبل گرفتار ہونے والا ملزم ایک سرکاری سکول کا ٹیچر تھا جو اپنے اصل پیشے کے بجائے ڈاکٹر بن کر مریضوں کی چیک اپ کرتا اور انہیں جعلی ادویات فراہم کرتا رہا۔
گرفتار جعلی ڈاکٹر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے میرانشاہ پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم چند دن بعد دوبارہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے رہا کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے کہا ہے کہ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔





