پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے وفد نے باچا خان مرکز پشاورکا دورہ کیا اور عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین سے ملاقات کی۔
ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال سمیت مختلف اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ وفد نے اے این پی کو صوبائی حکومت کے امن جرگے میں شرکت کی دعوت دی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونخوا میں قیام امن کے لئے جرگوں کا انعقاد خوش آئند ہے۔ ہم اس سے قبل بھی ایک دوسرے کے جرگوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا مختلف امور پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال اچھی روایت ہے۔
پی ٹی آئی وفد کو باچا خان مرکز پشاور میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا اس سے قبل وزیراعلی نے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے بھی رابطہ کیا تھا۔ ایمل ولی خان نے واضح کیا تھا کہ پارٹی مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کو جواب دیا جائے گا۔ ہم مرکزی تنظیم کےفیصلوں کے پابند ہیں، باہمی مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کرینگے۔
ان کا مزيد کہنا تھا کہ پختونخوا کو امن و امان سمیت مختلف سنگین مشکلات درپیش ہیں۔ مشکلات کو آپس میں مل بیٹھ کر ہی بہتر طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ صوبے اور ملک کے مفاد کیلئے جدوجہد کی ہے۔ جرگے میں شرکت کی دعوت پر پی ٹی آئی کے شکرگزار ہیں۔ سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی جرگہ کی دعوت کیلئے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔ان کو بھی ہم نے یہی موقف دہرایا کہ پارٹی مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی۔
ان کا مزيد کہنا تھا کہ اس سے قبل ہم نے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک جرگہ منعقد کیا تھا۔ ہم نے اس کا باقاعدہ تسلسل بھی جاری رکھا تھا اور آرگنائزنگ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ پختونخوا میں سنگین سیلاب کے باعث باہمی مشاورت کے بعد سرگرمیاں تعطل کا شکار ہوئی۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا تھا اور ایک تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ضرورت پڑی تو کسی بھی وقت آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوسکتا ہے۔ اسی تحریک کے باعث ہی صوبے کے مشکلات میں کسی حد تک کمی آئی تھی۔ امن و امان، دہشتگردی اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اسٹاک ایکسچینج نےکم عمر افراد کے لیے ٹریڈنگ اکاؤنٹس کی گائیڈ لائنز جاری کر دیں
پی ٹی آئی وفد میں شیر علی ارباب، شفیع جان، کامران بنگش، عرفان سلیم، ارباب عاصم اور دیگر شامل تھے۔ملاقات میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی ، صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم، جائنٹ سیکرٹری حامد طوفان اور صوبائی سالار شاکر شینواری بھی موجود تھے۔





