ذیشان کاکاخیل
پشاور :قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں ایک اور کارروائی کرتے ہوئے چار سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں اپر کوہستان سے رکنِ صوبائی اسمبلی فضل الحق کا بھائی صبر جمیل بھی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صبر جمیل پر الزام ہے کہ اس نے کیس کے مرکزی ملزم قیصر اقبال سے کروڑوں روپے وصول کیے۔
ذرائع کے مطابق نیب نے کارروائی کے دوران ایک سرکاری اسکول کے چوکیدار اور ایم پی اے فضل الحق کے مبینہ فرنٹ مین کو بھی حراست میں لیا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ چوکیدار نے مرکزی ملزم سے تقریباً 18 کروڑ روپے وصول کیے تھے۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دیگر دو سرکاری ملازمین بھی مبینہ طور پر اسی کیس میں کرپشن کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے بعد اس اسکینڈل میں گرفتار افراد کی مجموعی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملزمان کے قبضے سے تقریباً 18 ملین روپے نقد رقم بھی برآمد کی گئی ہے۔ نیب کی ٹیمیں مزید شواہد اور مبینہ رقوم کی برآمدگی کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل کو صوبے کے بڑے مالیاتی مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہےجس میں اب تک کئی سرکاری اہلکاروں اور بااثر شخصیات کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روزاحتساب عدالت پشاور نے اپر کوہستان مالیاتی سکینڈل میں گرفتار 8ملزمان کوجسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بیجھ دیاتھا۔
اپر کوہستان مالیاتی سکینڈل میں گرفتار 8 ملزمان کودو الگ الگ احتساب عدالتوں میں پیش کیا گیا۔
فہیم مون، شیرباز اور سرتاج کو احتساب عدالت علی گوہر کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ عبد الباسط، سید بلال شاہ، معیز حیدر، الفت علی اور عمران خان کو احتساب جج امجد ضیاء صدیقی کے روبرو پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان اپر کوہستان سکینڈل میں ملوث ہیں اور بعض کے اکاؤنٹس میں بھاری رقم منتقل ہوئی ہے۔ بعض ملزمان کے نام پر مرکزی ملزم قیصر اقبال اور دیگر نے اثاثے بنائے ہیں۔
جسمانی ریمانڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد عدالت نے تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کردیا۔





