بیرسٹر عقیل ملک نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا

اسلام آباد: وزیرمملکت قانون بیرسٹر عقیل ملک نے پشاور ہائیکورٹ کے سرکاری مشینری کے استعمال کے بارے میں دیے گئے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری وسائل کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے اہم قدم ہے۔

وفاقی دارالحکومت سے جاری اپنے بیان میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ سرکاری وسائل کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جو کہ ایک اچھا اور مثبت فیصلہ ہے۔

وزیر مملکت قانون نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان بار بار سرکاری وسائل کے غیر مناسب استعمال کی نشاندہی کر چکی تھی، اور یہ فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ عدالت نے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا۔

بیرسٹر عقیل ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت سکیورٹی انتظامات کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کرتی تو یہ بھی بے دریغ استعمال میں آتا، لیکن عدالت نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی، جس سے سرکاری وسائل کے تحفظ کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی جلسے جلوسوں میں سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی لگا دی

یاد رہے کہ اس سے پہلے پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں کے دوران سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

عدالت نے احتجاجی ریلیوں، جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری مشینری کے استعمال کے خلاف دائر درخواست پر چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ صوبائی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین یقینی بنائیں کہ سیاسی جلسوں، ملین مارچ اور دیگر عوامی احتجاجی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال نہ ہو۔

درخواست گزار کے مطابق صوبائی حکومت جلسوں اور ملین مارچوں میں سرکاری وسائل اور مشینری استعمال کرتی رہی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 4، 5 اور 25 کے خلاف ہے اور قومی خزانے کا ضیاع ہے۔

عدالت نے کہا کہ ریاست کو سرکاری تقریبات اور سیاسی تقریبات میں فرق کرنا چاہیے اور سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری مشینری کا استعمال حکومت کی غیر جانبداری کے اصول کے خلاف ہے۔

Scroll to Top