غزہ میں بارش، پناہ گزینوں کے خیمے پانی میں ڈوب گئے، روتی ماں کا سوال: اب کہاں جائیں؟

غزہ: اسرائیلی فوج کی بربریت کا شکار غزہ پٹی میں موسم سرما کی پہلی بارش نے پناہ گزینوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کے خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

بارش کے آغاز کے ساتھ ہی فلسطینیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب رات گئے عارضی پناہ گاہوں میں موجود افراد سو رہے تھے کہ اچانک تیز بارش شروع ہوگئی، جس سے ان کے خیموں میں پانی جمع ہوگیا۔

اس دوران رضائیاں، کمبل اور دیگر سامان بھی پانی کی نذر ہو گئے۔

غمزدہ فلسطینیوں نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے نے ان کے لیے یہ خیمے بنائے تھے، لیکن وہ اب شہید ہو چکے ہیں۔ ایک والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ اب میں کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟

ایک اور فلسطینی خاتون نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بارش میں بھیگ گئے ہیں، اور ان کے پاس بارش سے بچنے کے لیے کوئی چھت نہیں ہے۔

بارش کے بعد سردی میں شدت آ گئی ہے اور بے گھر پناہ گزین کھلے آسمان تلے سخت سردی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور: دھند میں بصارت کی کمی، موٹروے ایم 1 پشاور سے رشکئی تک ٹریفک کے لیے بند

انتظامات کی کمی کے باعث فلسطینیوں کو اپنے طور پر بارش کے پانی کی نکاسی کی کوششیں کرنی پڑ رہی ہیں۔

امدادی اداروں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بارش کے بعد پانی کے جمع ہونے سے مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top