پشاور: پیپلز پارٹی کے رہنما اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں ہونے والی ہر دہشتگردی میں افغان باشندوں کا کردار سامنے آ رہا ہے۔
اپنے تازہ بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ وانا کیڈٹ کالج پر ہونے والے حملے کو سیکیورٹی فورسز نے اپنی بہترین مہارت اور بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کچہری حملہ ہو یا وانا کیڈٹ کالج پر دھاوا، دونوں واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
گورنرفیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان نے افغان باشندوں کو برسوں تحفظ اور مہمان نوازی فراہم کی، لیکن افغانستان کو بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کے ہاتھوں میں کھیلنے سے باز رہنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ قطر اور ترکیہ میں پاکستان نے افغان عناصر کے خلاف دستاویزی شواہد پیش کیے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پاکستان اب افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی مزید برداشت نہیں کر سکتا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے مطابق بھارت کو چند دنوں میں منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والا پاکستان، مٹھی بھر دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد کچہری حملے میں بڑی پیشرفت، سہولت کار گرفتار
یاد رہے کہ کچھ دن پہلے اسلام آباد کچہری کے سامنے دھماکہ ہوا تھا ،اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس جی الیون میں خودکش حملے کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے جس میں حملے کے سہولت کار سمیت چار دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
یہ کارروائی انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوئی۔
ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد ٹی ٹی پی ، فتنہ الخوارج کے ایک سیل کے ارکان ہیں، جو اسلام آباد کچہری حملے میں خودکش بمبار کے معاون کے طور پر سرگرم تھے۔
تفتیش کے دوران سامنے آیا کہ دہشت گرد کمانڈر سعید الرحمن عرف داد اللہ نے ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے خودکش حملے کی ہدایت دی تھی۔
حملے کا سہولت کار ساجد اللہ عرف شینا نے خودکش بمبار عثمان عرف قاری کو پاکستان میں پہنچانے اور اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرانے کا اعتراف کیا۔
داد اللہ جو باجوڑ اور افغانستان میں مقیم ہے، ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف ہے، اس نے زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے مقصد سے خودکش حملے کا منصوبہ بنایا۔





