وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امورسینیٹررانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم بھی جلد پاس ہوگی جو عوامی ایشوز سے متعلق ہے۔
چنیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 27ویں ترمیم کے خلاف مزید ججز نے استعفے دینے ہوتے تو اسی روز آ جاتے۔
انہوں نے کہاکہ ترمیم پاس کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے جسے کوئی ختم نہیں کر سکتا، ایک جج کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو سیاسی احتجاج میں ملوث کرے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم کو بنیاد بنا کر جن ججز نے استعفے دیے ان کے ذاتی مقاصد ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ججز کی مراعات کے بارے میں بات چیت ہوگی اور اس کے بعد حتمی فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کا ہوم ورک مکمل نہیں، 28 ویں ترمیم پر جلدی غیر مناسب ہے: سینیٹر ایمل ولی خان
سینیٹر ایمل ولی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28 ویں ترمیم پر جلدی کرنا غیر مناسب ہے کیونکہ حکومت نے اپنا ہوم ورک مکمل نہیں کیا۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ آئین صحیح طریقے سے منظور نہیں ہوا اور ہماری کوئی غلطی نہیں ہے۔ ’’ہم ہاں یا نہ والے ہیں، کھڑے ہو جائیں اور بیٹھ جائیں۔ تکنیکی غلطیوں کو دیکھنا حکومت اور لاء ڈویژن کا کام ہے۔ ہر آئینی ترمیم میں کچھ نہ کچھ کنفیوژن چلتی رہتی ہے اور میڈیا کو بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ حکومت کو اپنا ہوم ورک مکمل طریقے سے کرنا چاہیے تھا۔‘‘
سینیٹر ایمل ولی خان نے پشاور میں حالیہ امن جرگے کی کارروائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ جرگہ خیبر پختونخوا کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جرگے میں بلائے جانے کے باوجود انہیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ پختون روایات کے مطابق کسی کو جرگے میں بلانے پر اس کو بات کرنے کا موقع ملنا ضروری ہے، لیکن جنہوں نے جرگہ بلایا وہ دماغی طور پر بچوں کی طرح ہیں، جو چیز ہاتھ میں آتی ہے اسے برباد کر دیتے ہیں۔
سینیٹر نے واضح کیا کہ ابھی 27 ویں ترمیم پر کام جاری ہے اور 28 ویں ترمیم پر جلد بازی غیر مناسب ہے۔





