پشاور(سلمان یوسفزئی )صوبائی وزیرِ تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ناقص مٹیریل کے استعمال کی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو دو ہفتوں کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیرِ تعلیم نے واضح کیا کہ عوامی فلاح کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں میں کسی قسم کی کرپشن، بدعنوانی یا ناقص مٹیریل کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتی ہے اس لیے کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا مالی بے ضابطگی ناقابل قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان تحریک انصاف کا ورکر جس نے کینیڈا میں شاہزیب خانزادہ اور ان کی بیگم کو ہراساں کیا منظر عام پر آگیا
انہوں نے مانیٹرنگ حکام کو ہدایت کی کہ پراجیکٹ میں شامل تمام سکولوں کا فوری معائنہ کر کے تعمیراتی کوالٹی اور مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور مقررہ مدت میں رپورٹ جمع کرائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پراجیکٹ کے کاموں کی نگرانی ایجوکیشن مانیٹرنگ ٹیم کے علاوہ صوبائی پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم بھی کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فراہم کردہ رپورٹس کی بنیاد پر سخت ایکشن لیا جائے گا اور ملوث افسران یا ٹھیکیداروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ساتھ ہی محکمہ تعلیم کے تمام جاری منصوبوں کی سخت ترین مانیٹرنگ کرنے اور تعمیراتی و فنی معیار کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
واضح رہے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک انسپیکشن رپورٹ جاری کیا ہے جس میں خیبر پختونخوا ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کے تحت پشاور کے مختلف سرکاری اسکولوں میں جاری تعمیراتی و بحالی کاموں میں سنگین بے ضابطگیوں اور معیاری اصولوں کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد اسکولوں میں کم معیار مواد کے استعمال، ریکارڈ کی عدم موجودگی، غیر منظور شدہ تعمیراتی طریقہ کار اور ناقص ورک مین شپ جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔
ورلڈ بینک کے 11کروڑ 50لاکھ ڈالر کے تعاون سے جاری منصوبے کا مقصد پشاور سمیت منتخب اضلاع میں تعلیم سے متعلق سہولیات کی بہتری ہے تاہم رپورٹ نے پراجیکٹ کے کوالٹی کنٹرول نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پشاور میں مجموعی طور پر 99 اسکول اس منصوبے کا حصہ ہیں جن میں سے متعدد کی تفصیلی جانچ کے دوران تشویشناک نتائج سامنے آئے۔





