جہانزیب خان آفریدی
ضلع خیبر میں قیدی کے فرار کے واقعے پر سید کریم چیک پوسٹ کے انچارج سمیت 9 پولیس اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق باڑہ پولیس کی تحویل میں موجود قیدی کے فرار کے سنگین واقعے پر خیبر پولیس نے سخت نوٹس لیتے ہوئے معطل اہلکاروں کو فوری طور پر پولیس لائنز میں حاضر ہونے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان تحریک انصاف کا ورکر جس نے کینیڈا میں شاہزیب خانزادہ اور ان کی بیگم کو ہراساں کیا منظر عام پر آگیا
فرار ہونے والے قیدی کا نام حوالدار داؤد ہے جو قبیلہ ستوری خیل سے تعلق رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق داؤد اس سے قبل کوٹے زیارت چیک پوسٹ کا انچارج بھی رہ چکا ہے۔ تاہم گزشتہ روز وہ مبینہ طور پر سید کریم چیک پوسٹ سے فرار ہو گیا یا فرار کروایا گیا۔
زرائع کے مطابق داؤد اس وقت اورگزئی میں روپوش ہے، جہاں اس کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ہیومن کیپٹل پراجیکٹ میں بدعنوانی کے الزامات،وزیرِ تعلیم نے سخت نوٹس لے لیا
خیبر پولیس کے زرائع کے مطابق معطل اہلکاروں میں سید کریم (چیک پوسٹ انچارج)، امجد افریدی، عبدالقادر، محمدعارف، شکیل، شال اکبر، محمد، محمد اصف، شہزاد اور عارف شامل ہیں۔ معطل اہلکاروں کو سختی سے پولیس لائنز میں حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے اہلکار داؤد اور سیدولی، جو آکا خیل سے تعلق رکھتے ہیں، آٹا ڈیلر ڈکیتی کے واقعے میں ملوث تھے اور اس وقت دونوں روپوش ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ علاقے میں قانون شکنی کی کوئی گنجائش نہیں ہے چاہے وہ کسی بھی سطح پر ہو۔ باڑہ ڈکیتی میں کچھ ریکوری بھی کی گئی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔





