کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا الزام، الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو کل طلب کرلیا
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر کل طلب کرلیا ہے۔ یہ کارروائی حویلیاں میں وزیراعلیٰ کی تقریر کے بعد سامنے آئی، جہاں انہوں نے انتخابی عملے اور ضلعی انتظامیہ سے متعلق سخت جملے ادا کیے تھے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اسلام آباد میں اہم اجلاس ہوا، جس میں الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم نے سہیل آفریدی کے بیان سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں حویلیاں جلسے کے دوران وزیراعلیٰ کی جانب سے استعمال کی گئی ’’اشتعال انگیز زبان‘‘ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تقریر میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی عملے کے حوالے سے غیر مناسب اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے، جسے الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ ضابطۂ اخلاق کے مطابق کوئی بھی سرکاری عہدے پر فائز شخص انتخابی مہم کا حصہ نہیں بن سکتا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کو وضاحت کے لیے پیش ہونے کا حکم دیا جائے، جبکہ صوبائی الیکشن کمشنر کو آئی جی خیبرپختونخوا کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے تاکہ انتخابی عمل کی سکیورٹی اور شفافیت یقینی بنائی جاسکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز حویلیاں جلسے سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’’پاکستان میں کچھ بڑا ہونے والا ہے، ہری پور میں 23 نومبر کو ووٹ تبدیل کرنے والے صبح کی روشنی نہیں دیکھیں گے۔‘‘انہوں نے شکوہ کیا کہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود ایک منتخب وزیراعلیٰ کو اپنے لیڈر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی، جس کے بعد انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے انہیں دیوار سے لگایا تو وہ “ببر شیر” کی طرح جواب دیں گے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ طلبی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے خلاف سخت مؤقف کے طور پر دیکھی جارہی ہے، جبکہ اس پیش رفت نے سیاسی ماحول میں مزید تناؤ پیدا کردیا ہے۔





