مولانا فضل الرحمان کے بطور سربراہ اپوزیشن اتحاد ہونے کی افواہوں پر بیرسٹر گوہر نے وضاحت دے دی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن اتحاد کا سربراہ بنانے کے حوالے سے کوئی آپشن زیر غور نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور سیاسی جماعت تحریک انصاف نے وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور ان کی ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کی بہنوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سیاسی روایات کی پامالی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت کے لیے کئی مرتبہ ہاتھ بڑھایا گیا لیکن بدقسمتی سے کوئی سیاسی حل نکل نہیں سکا۔
بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کی جانب سے لیز پراپرٹیز پر ازخود نوٹس اور ان کے موکل کی پراپرٹیز کے حوالے سے وضاحت بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ریلوے کی 117 پراپرٹیز میں سے صرف چار پر ان کے موکل نے لیز لی تھی جس پر ابھی تک تعمیر ممکن نہیں ہوئی جبکہ باقی زمینوں پر تعمیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیز کا معاہدہ 8 اکتوبر 2009 کو ہوا اور ادائیگی مکمل کر دی گئی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے 8 دسمبر کو سو موٹو کارروائی کی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے استدعا کی کہ زمین کے استعمال کی مدت میں اضافہ کیا جائے تاکہ مقررہ پانچ سال میں تعمیر ممکن ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا آج سے آئین کی بحالی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان
محمود خان اچکزئی کو تحریک تحفظ آئین کی سربراہی سے ہٹانے اور مولانا فضل الرحمان کو سربراہ بنانے پر خبریں زیر گردش تھیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر نامزدگی کے بعد محمود اچکزئی کو تحریک تحفظ آئین کی سربراہی سے ہٹانے پر غور کیا جارہا ہے، جس کی بیرسٹر گوہر نے تردید کردی۔
پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کو اتحاد کا سربراہ بنانے اور جے یو آئی کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہیں تاہم کچھ رہنماؤں نے اس کی مخالفت کی ہے۔





