وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی الیکشن کمیشن طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور این اے 18 ہری پور کی امیدوار شہرناز عمر الیکشن کمیشن کی طلبی کے باوجود آج پیش نہیں ہوئے۔

الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی اور شہرناز کو دھمکی آمیز خطاب کے معاملے میں آج طلب کیا تھا۔

شہرناز کے وکیل حسن قادر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، جبکہ ہری پور سے ن لیگ کے امیدوار بابر نواز خان بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے مخالف امیدوار کے خلاف درخواست دائر کی۔

بابر نواز خان نے کہا کہ وہ این اے 18 سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور اس کیس میں شکایت کنندہ ہیں۔

کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعرات کے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے این ای-18 ہری پور ضمنی انتخاب سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لے لیا تھا۔

خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ضمنی انتخاب کے نتائج میں ردوبدل یا دھاندلی کی کوشش کرنے والوں کو سخت انتباہ جاری کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ان ریمارکس کا نوٹس ملا ہے جن میں انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دی اور جلسے میں موجود عوام اور عام لوگوں کو اشتعال دلایا۔

یہ بھی پڑھیں: ہری پور ضمنی انتخاب، الیکشن کمیشن نے پاک فوج کو طلب کرلیا

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے ترجمان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کسی شخص کو دھمکی نہیں دی بلکہ پیغام یہ تھا کہ الیکشن میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ انتخابات میں مداخلت جرم ہے اور وزیراعلیٰ نے اسی قانونی حقیقت کی نشاندہی کی ہے، الیکشن کے دوران کسی بھی غیر قانونی کارروائی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

Scroll to Top