پشاور(کامران علی شاہ) کوہستان کرپشن سکینڈل میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے،گرفتار 3ملزمان نےبلی بارگین کیلئے درخواستیں جمع کردی۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے ذرائع کے مطابق اس سکینڈل میں ملوث تین ملزمان نے ساڑھے 16 ارب روپے کی پلی بارگین کے لیے درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
ملزمان میں نیشنل بینک کا کیشئر ریاض، کنٹریکٹر ایوب اور ممتاز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق پلی بارگین کی درخواستیں ڈی جی نیب کی منظوری کے بعد چیئرمین نیب کو ارسال کر دی گئی ہیں۔
نیب کے ذرائع کے مطابق بینک کیشئر ریاض نے 10 ارب روپے، ایوب نے ساڑھے 3 ارب روپے اور ممتاز نے 3 ارب روپے واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
پلی بارگین کی درخواستوں میں ملزمان کے بینک اکاونٹس، جائیدادیں، گاڑیاں، سونا اور نقدی سمیت دیگر اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ اثاثے بینک کیشئر ریاض کے اسلام آباد اور ایبٹ آباد میں ہیں، جن میں اسلام آباد میں بنگلے، پلازے اور دیگر جائیدادیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کوہستان میگاکرپشن سیکنڈل،مذید4افراد گرفتار،ممبرصوبائی اسمبلی کا بھائی شامل
نیب خیبرپختونخوا نے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں ایک اور کارروائی کرتے ہوئے چار سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں اپر کوہستان سے رکنِ صوبائی اسمبلی فضل الحق کا بھائی صبر جمیل بھی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صبر جمیل پر الزام ہے کہ اس نے کیس کے مرکزی ملزم قیصر اقبال سے کروڑوں روپے وصول کیے۔
ذرائع کے مطابق نیب نے کارروائی کے دوران ایک سرکاری اسکول کے چوکیدار اور ایم پی اے فضل الحق کے مبینہ فرنٹ مین کو بھی حراست میں لیا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ چوکیدار نے مرکزی ملزم سے تقریباً 18 کروڑ روپے وصول کیے تھے۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دیگر دو سرکاری ملازمین بھی مبینہ طور پر اسی کیس میں کرپشن کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے بعد اس اسکینڈل میں گرفتار افراد کی مجموعی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملزمان کے قبضے سے تقریباً 18 ملین روپے نقد رقم بھی برآمد کی گئی ہے۔ نیب کی ٹیمیں مزید شواہد اور مبینہ رقوم کی برآمدگی کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔





