کراچی: کراچی میں جامعۃ الرشید کے سالانہ فضلاء تربیتی اجتماع میں شرکت کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چوہدری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سلامتی، فوج کے کردار اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
جامعۃ الرشید کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان دنیا کے کم سے کم دفاعی بجٹ کے باوجود عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور 57 اسلامی ممالک میں صرف پاکستان کو محافظ الحرمین الشریفین کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔
انہوں نے فوجی تربیت اور میرٹ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کو سمجھنے کے لیے پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) کو سمجھنا ضروری ہے، جہاں ملک کے ہر خطے مختلف قومیتوں اور متوسط و غریب طبقے کے نوجوان میرٹ کی بنیاد پر شامل ہوتے ہیں۔ فوج میں شمولیت کے لیے کسی کے لیے میرٹ کے سوا کوئی معیار نہیں۔
خطے کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں طالبان شریعت کا نام لیتے ہیں لیکن عملی طور پر اسلام کے بڑے دشمنوں کا آلہ کار بن چکے ہیں۔
اسلامی ریاست کے دعویدار جس اسلام کی تصویر پیش کر رہے ہیں، وہ حقیقی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
بلوچستان کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و استحکام کے لیے عوام کو دہشت گردوں کے خلاف اپنی فوج کا مکمل ساتھ دینا ہوگا۔
بلوچستان میں جاری جدوجہد انٹیلیجنس کی جنگ ہے، جسے صرف قوم اور فوج کے اشتراک سے ہی کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں ایک بھی کالج موجود نہیں تھا، لیکن آج یہاں ہزاروں تعلیمی اور رفاہی ادارے قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیاں، 13 دہشتگرد ہلاک، 2 اہم کمانڈر بھی مارے گئے
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ احساسِ محرومی کا جو بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے وہ حقیقت کے خلاف ہے، کیونکہ صوبے کی 1 کروڑ 50 لاکھ آبادی کے لیے بجٹ 1028 ارب روپے مختص ہے جبکہ پنجاب کی 12 کروڑ آبادی کے لیے 5300 ارب روپے دستیاب ہیں۔
سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی فیک خبروں کے حوالے سے جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بیانیہ ہمیشہ حقائق پر مبنی ہونا چاہیے، غلط معلومات پر مبنی بیانیہ قوم کو صحیح سمت نہیں دکھا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد ہونا ہوگا۔ قوم کا ایک بیانیہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج حق پر ہے اور اس کی حقانیت کی متعدد مثالیں سامنے آ چکی ہیں، جن میں بھارت کے خلاف کامیابیاں اور خوارج کے خلاف فتوحات شامل ہیں۔
آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملک کی حفاظت صرف فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ عوام تک درست معلومات اور حقائق پہنچائیں تاکہ قوم متحد اور باخبر رہے۔





