تحریک انصاف دور میں فعال افغان تجارت اب مکمل بند، موجودہ حکومت ذمہ دار، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا عوامی جلسے میں خطاب
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی کو ختم کیا جائے گا، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے انصاف فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون کی بالادستی کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہو، پی ٹی آئی ہر فورم پر ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
صوابی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ بدترین حالت کو پہنچ چکا ہے، جو حکومت کی ناکام پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت شدید انتظامی و معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور عوام مسائل کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے موجودہ حکومت کی قانون سازی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی تمام قانون سازی جو عوامی مفاد کے خلاف ہے، اسے مسترد کیا جائے گا۔ ہم اس ملک میں ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی اور انصاف بنیادی اصول ہوں۔
اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت فعال اور مستحکم تھی، تاہم موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث وہ تجارت مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کا نقصان دونوں ممالک کے تاجروں اور عام عوام کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نہ جنگ چاہتی ہے اور نہ ہی تناؤ، بلکہ امن، ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی خواہاں ہے۔
جلسے کے اختتام پر انہوں نے دوبارہ اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی ملک میں قانون کی بالادستی، شفاف نظام اور معاشی استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔





