ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق نافذ، حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج تعینات کی جائے گی

ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق نافذ، حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج تعینات، الیکشن کمیشن نے پاک فوج اور سول فورسز کے فرائض و حدود واضح کر دیے

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخابات کے دوران پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔ ضابطہ اخلاق میں انتخابی ڈیوٹی کے دوران فورسز کے فرائض اور حدود واضح طور پر طے کیے گئے ہیں تاکہ پولنگ کے دوران شفافیت اور سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق پولیس کو پہلی رسپانڈر، سول آرمڈ فورسز کو دوسری اور پاک فوج کو تیسری رسپانڈر (Quick Response Force) کے طور پر تعینات کیا جائے گا۔ فوج حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر مامور ہوگی تاکہ کسی بھی ہنگامہ آرائی یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ پریس پر بھی پاک فوج اور سول فورسز سیکیورٹی فراہم کریں گی اور انتخابی مواد کی ترسیل کے دوران بھی یہ فورسز مکمل تحفظ فراہم کریں گی۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ ہر افسر وہ اختیارات استعمال کرے گا جو الیکشن کمیشن نے تفویض کیے ہیں، اور ڈی آر او، آر او اور پولنگ اسٹاف کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں فورسز کو پہلے پریزائیڈنگ افسر اور اپنے چین آف کمانڈ کو اطلاع دینی ہوگی اور پولنگ اسٹاف کے کام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

پولنگ اسٹیشن کے باہر اگر کوئی بے ضابطگی پیش آئے تو فورسز خود سے کارروائی نہیں کریں گے، کسی اہل ووٹر کو داخلے سے نہیں روکیں گے، اور صرف ہتھیار یا دیگر غیر ضروری اشیا رکھنے والے ووٹر کو پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ ہنگامہ آرائی یا انتشار پھیلانے والے ووٹر کو فورسز مؤثر طریقے سے روکیں گی۔

مزید برآں، ضابطہ اخلاق میں واضح کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹاف کے فرائض کسی بھی صورت فورسز کے ذمے نہیں آئیں گے اور مبصرین کو پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی مکمل اجازت ہوگی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یہ ضابطہ اخلاق ضمنی انتخابات کو شفاف، محفوظ اور پرامن انداز میں کرانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے، اور تمام فورسز اپنی ذمہ داریاں قانونی دائرے میں رہتے ہوئے پوری کریں گی۔

Scroll to Top