ڈاکٹرز اکثر مریضوں کو بیماری کے دوران چاول اور بڑے گوشت (بیف) کے استعمال سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں، جس کے پیچھے کئی طبّی وجوہات ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیماری کے دوران جسم کمزور اور ہاضمہ سست ہوجاتا ہے، اس مرحلے پر ایسی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جو جسم پر بوجھ نہ ڈالے اور آسانی سے ہضم ہو جائے۔
ماہرین کے مطابق چاول اگرچہ جلد ہضم ہوجاتے ہیں، لیکن ان میں فائبر کی کمی کے باعث خون میں شوگر اچانک بڑھ سکتی ہے (خاص طور پر شوگر کے مریضوں میں) جسم میں نمی میں اضافہ ہوسکتا ہے، جو بخار، نزلہ اور انفیکشن میں مسئلہ پیدا کرتا ہے، چاول بعض صورتوں میں وزن اور سستی میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں،اسی لیے ڈاکٹرز زیادہ تر بخار، زکام، نزلہ اور کمزوری میں چاول سے پرہیز کرواتے ہیں۔
بڑا گوشت ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے اور کمزور جسم پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق بیف میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو کولیسٹرول میں اضافہ، دل پر دباؤ،جسم میں سوزش بڑھانےکا باعث بن سکتی ہے۔
اسی وجہ سے بخار، انفیکشن، جوڑوں کے درد اور کمزوری کی حالت میں بیف سے سختی سے منع کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹرز ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا تجویز کرتے ہیں، جیسے دال، سبزیاں، دلیا، چکن سوپ، ابلی ہوئی نرم غذائیں،یہ خوراک جسم کو توانائی دیتی ہے اور ہاضمے پر بھی دباؤ نہیں ڈالتی۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا جا رہا، معین قریشی
ماہرین کے مطابق چاول یا بیف بذاتِ خود نقصان دہ نہیں، تاہم بیماری کی حالت میں جسم کی کمزوری کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا استعمال وقتی طور پر محدود کرنا بہتر ہوتا ہے۔ صحت بہتر ہونے پر ڈاکٹر کے مشورے سے معمول کی غذا دوبارہ شامل کی جا سکتی ہے۔





