سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بڑے لوگوں کی خواہش پر ترامیم، ضرورت پڑنے پر اسلام آباد کا رخ کرینگے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عوام کی خواہشات کے بجائے ملک میں آئینی ترامیم بڑے لوگوں کی خواہش کے مطابق کی جا رہی ہیں، اور ضرورت پڑنے پر وہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بات مردان میں تکمیل حفظ القرآن کریم الجامعہ الاسلامیہ کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک اصل میں امن، بھائی چارے اور آزادی کی علامت ہونا چاہیے تھا، لیکن آج آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہشات پر شب خون مارا جا رہا ہے اور 27 ویں ترمیم کے لیے لوگوں کو خرید کر دو تہائی اکثریت بنائی گئی، جس کے نتیجے میں کھوکھلی اکثریت سے یہ ترمیم منظور کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے عالمی صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور وزیرِاعظم شہباز شریف ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام دینے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی باتوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اور پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے زور دے کر کہا کہ اگر ملکی عوام کے حقوق پامال ہوتے رہے یا آئینی تبدیلیاں طاقتور حلقوں کی خواہشات کے مطابق کی جاتی رہیں تو وہ عوامی نمائندگی کے لیے اسلام آباد کا رخ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی اسمبلی اسپیکر کا سہیل آفریدی کو مشورہ، عمران خان سے رابطہ





