اسلام آباد: ہر سال 5 دسمبر کو دنیا بھر میں رضاکاروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، تاکہ ان افراد کی بے لوث خدمات کو سراہا جائے جو مشکل حالات میں انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
رضاکار وہ لوگ ہیں جو قدرتی آفات، حادثات یا ناگہانی واقعات کے دوران پیش پیش رہتے ہیں، اور متاثرین کی مدد کر کے معاشرے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ دن ہر سال ان کے جذبۂ انسانیت، قربانی اور خدمت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
رضا کار نہ صرف بلا معاوضہ اور بلا مفاد خدمت کرتے ہیں بلکہ یہ معاشرے میں اتحاد، بھائی چارہ اور ہمدردی کے فروغ کا ذریعہ بھی ہیں۔ وہ رنگ و نسل یا مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانی جان کی حفاظت کو اپنا نصب العین بناتے ہیں۔
رضاکاروں کی خدمات میں نہ صرف امدادی سرگرمیاں شامل ہیں بلکہ یہ افراد معاشرتی شعور بیدار کرنے، حادثات میں فوری کارروائی، طبی امداد کی فراہمی اور معاشرتی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
ان کی کاوشیں عام لوگوں کے لیے مثال ہیں اور معاشرے کو بہتر بنانے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مشال یوسفزئی پر 43 کروڑ کا الزام، 26 نومبر کی امداد کہاں گئی؟ مروت نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا
سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں ہر سال اس دن مختلف تقریبات کا انعقاد کر کے رضا کاروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں اور نئے رضاکاروں کو بھی اس عظیم مقصد میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہیں۔
پاکستانی عوام اور ادارے آج اس دن کے موقع پر ان تمام افراد کو سلام پیش کر رہے ہیں جو انسانی خدمت، قربانی اور جذبۂ انسانیت کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔
بلاشبہ یہ افراد ہمارے معاشرے کا حقیقی حسن اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں۔





