سرحدی بندش اور مالی رکاوٹیں، پاکستانی کینو کاروبار کو دھچکا

اسلام آباد: پاک افغان کشیدگی اور سرحدوں کی بندش کے باعث افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی ٹرک ڈرائیورز شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

سرحدی علاقوں پر پھنسے ڈرائیورز نہ صرف خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ بعض معاملات میں ان پر تشدد کے بھی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے صدر جنید ماکڈا نے میڈیاکو بتایا کہ کشیدہ صورتحال نے پاکستانی کینو کے برآمد کنندگان، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک آپریٹرز کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

جنید ماکڈا کے مطابق کئی ڈرائیوروں کے پاس نقدی ختم ہو چکی ہے اور خوراک و دیگر بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا انسانی بحران پاکستان میں بھی جاری ہے، جہاں سیکڑوں ڈرائیور سرحدی مقامات پر بغیر پناہ گاہ یا ضروری امداد کے محصور ہیں۔

چیمبر آف کامرس نے مزید کہا کہ وزارت تجارت کے طلب کردہ حالیہ اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایران کے زمینی راستے سے ایران اور وسط ایشیا کے ممالک کو برآمدات کے لیے فنانشل انسٹرومنٹ کے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں کینو کے برآمد کنندگان اب کسی قابل عمل ادائیگی کے طریقہ کار کے بغیر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان سمیت دنیا بھر میں رضا کاروں کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

جنید ماکڈا نے زور دیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف کینو کے ایکسپورٹرز بلکہ پاکستان کی برآمدات کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحدی بحران کو انسانی ہمدردی اور تجارتی نقطہ نظر سے جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ پھنسے ہوئے پاکستانی شہری محفوظ طور پر واپس لوٹ سکیں اور برآمدی سرگرمیاں بحال ہوں۔

Scroll to Top