غیر قانونی قیام کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، 31 ہزار سے زائد غیر ملکی افراد ڈی پورٹ، 46 ہولڈنگ سینٹرز میں جاری اسکریننگ، پنجاب پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی جاری
تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے، اور اب تک 31 ہزار سے زائد افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق یہ کارروائیاں صوبے کے تمام بڑے شہروں اور اضلاع میں بیک وقت جاری ہیں، جن کا مقصد غیر قانونی رہائش اور بغیر اجازت قیام کو روکنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور سمیت مختلف اضلاع سے جن غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا گیا ہے، ان میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے۔ ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں 11 ہزار 362 مرد، 6 ہزار 426 خواتین جبکہ 19 ہزار 366 بچے شامل ہیں، جو مختلف ہولڈنگ پوائنٹس کے ذریعے واپس بھیجے گئے۔
دستاویزی صورتحال اور اعداد و شمار جاری پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں سے 9 ہزار 931 ایسے افراد تھے جن کے پاس کسی نہ کسی نوعیت کا رہائشی ثبوت موجود تھا، جبکہ 11 ہزار 64 افراد افغان سٹیزن کارڈ کے حامل تھے۔تاہم 10 ہزار 16 افراد مکمل طور پر غیر قانونی طور پر مقیم تھے، جن کے پاس کسی قسم کی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ترجمان نے بتایا کہ اس وقت بھی 165 غیر قانونی مقیم افراد مختلف ہولڈنگ پوائنٹس میں موجود ہیں، جن کی مزید اسکریننگ اور دستاویزی کارروائی کے بعد انہیں واپس بھیجا جائے گا۔
ہولڈنگ سینٹرز میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری غیر قانونی رہائش کے خلاف شروع کیے گئے اس آپریشن کے تحت صوبے بھر میں 46 ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 5 سینٹرز لاہور میں قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز میں افراد کی دستاویزات کی جانچ، اسکریننگ اور قانونی پراسیس مکمل ہونے کے بعد انہیں ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔
پنجاب پولیس کا واضح مؤقف ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی قیام کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔اس سلسلے میں تمام اضلاع میں کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور ایسے تمام افراد کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر اجازت پاکستان میں مقیم ہیں۔





