گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نہایت زیرک اور تجربہ کار سیاستدان ہیں اور وہ پاکستان تحریک انصاف سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کا مکمل انحصار خیبرپختونخوا حکومت پر ہے، اگر صوبائی حکومت چاہے تو گورنر راج لگ سکتا ہے اور اگر وہ نہ چاہے تو ایسا ممکن نہیں ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ سرحد پار کالعدم ٹی ٹی پی موجود ہے جس کے باعث سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اپنے شہدا کے جنازے اٹھا رہے ہیں ایسے میں اگر کوئی یہ کہے کہ فوج کی ضرورت نہیں تو یہ شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب صوبے میں دہشتگردی ہے اور لوگ شام کو گھروں سے نہیں نکل سکتے تو پھر سیکیورٹی فورسز کے بغیر دہشتگردوں کا مقابلہ کیسے ممکن ہوگا؟
فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ اگر طالبان اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں تو کون سا اسلام بے گناہ بچوں، مدرسوں اور سکولوں پر حملوں کی اجازت دیتا ہے؟
گورنر نے کہا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اگر وانا کیڈٹ کالج کے دفاع میں فوج موجود نہ ہوتی تو اے پی ایس ٹو جیسا سانحہ رونما ہوسکتا تھا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سپیکر خیبرپختونخوا نے ایک جرگہ بلایا تھا جہاں انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں اچھی گورننس کی بدولت عوام نے ہمیں تیسری بار منتخب کیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر ہم وفاقی حکومت کی جانب سے بلائے گئے اجلاسوں میں شامل ہی نہیں ہوں گے تو اپنا کیس خود ہی کمزور کریں گے، صوبہ تب ہی چل سکتا ہے جب وفاق اور سیکیورٹی اداروں کو ساتھ رکھا جائے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت نے بھی جیل میں وقت گزارا ہے لیکن جیل کے دوران پیپلزپارٹی کی قیادت کی کوئی سیاسی مشاورت نہیں ہوتی تھی۔





