سلمان یوسفزئی
پشاور پریس کلب میں خیبر میڈیکل کالج کے ملازمین، کلیریکل اسٹاف اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبے میں میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم کے لیے فوری طور پر میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔
مقررین نے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں بدقسمتی سے آج تک کوئی میڈیکل یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی، جس کے باعث ہزاروں طلبہ دوسرے صوبوں اور بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل ایمپلائیز ایسوسی ایشن خیبر میڈیکل کالج کے سمیع اللہ خان، ایپکا کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ وسیم، مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما اور باچا خان ویلفیئر سوسائٹی کے رکن اولیاء جان خان نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے خیبر میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے وعدے تو کیے گئے لیکن عملی اقدامات کبھی نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ:افسوسناک انکشافات سامنے آگئے
ان کے مطابق بعض مفاد پرست مافیاز نہیں چاہتے کہ کے ایم سی کو یونیورسٹی بنایا جائے۔
رہنماؤں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں حال ہی میں کے ایم سی کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کی متفقہ قرارداد پاس ہو چکی ہے جسے عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ قرار دیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال سے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود معاملہ صرف قراردادوں تک محدود رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے صوبے میں بین الاقوامی معیار کی میڈیکل تعلیم میسر آئے گی طلبہ کو چین، روس اور دیگر ممالک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، جبکہ تحقیقی سرگرمیوں، جدید لیبز اور نئے ایم فل، پی ایچ ڈی، ایف سی پی ایس، ایم ایس، ایم ڈی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروگرامز کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔ اس سے صوبے میں صحت کا نظام مضبوط ہوگا اور ڈاکٹرز کی کمی بھی پوری ہوگی۔
رہنماؤں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی کی پاس شدہ قرارداد کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے کیونکہ اس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں متفق ہیں۔
سمیع اللہ خان نے کہا کہ خیبر میڈیکل کالج صوبے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور 75 سال سے کیے جانے والے سیاسی اعلانات اب عملی اقدامات میں بدلنے چاہییں۔





