سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ گورنر راج لگانے کی کسی میں جرات نہیں، صوبہ نہیں چل سکے گا
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کی کسی میں ہمت نہیں، اور اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو صوبہ انتظامی طور پر مفلوج ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر اپنا واضح اور آفیشل مؤقف سامنے لائے کہ آیا احمد کریم کنڈی کا بیان پارٹی پالیسی ہے یا محض ذاتی رائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ ‘‘ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں، گورنر راج ان کے بس کی بات نہیں’’۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ امن کی خواہاں رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف تمام وسائل استعمال کیے جانے چاہئیں، تاہم سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنانے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے لیے پالیسی سازی کے عمل میں مقامی کمیونٹی کو شامل کیا جانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اور دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو اس مشاورت کا حصہ بننا چاہیے، ورنہ یکطرفہ فیصلوں سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
اسد قیصر نے یہ بھی شکوہ کیا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے زیر انتظام قومی جرگوں کو وہ اہمیت نہیں دے رہی جس کی وہ حقدار ہیں، حالانکہ ان جرگوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی موجود ہوتے ہیں۔
اپنی تقاریر پر ممکنہ اعتراضات کے جواب میں انہوں نے سوال اٹھایا’’کیا ہمارے جلسوں میں کی جانے والی تقاریر عطا تارڑ کی پریس کانفرنسز سے زیادہ سخت تھیں؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں تمام تقاریر آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کی جاتی ہیں۔آخر میں اسد قیصر نے کہا کہ ان کی جماعت آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔’’قانون جتنی اجازت دیتا ہے، ہم اتنی ہی بات کریں گے۔‘‘





