حکومت نے اسپیکر ہاؤس میں مذاکرات کی پیشکش کی مگر پی ٹی آئی قیادت نے مسترد کر دیا، رانا ثنا

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی مگر پارٹی کی سینئر قیادت نے بتایا کہ انہیں بات چیت کی اجازت نہیں۔

ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سیاست کے بجائے محاذ آرائی کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کا انجام بھی بانی متحدہ جیسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پارٹی کی مشاورت سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی۔

اگر یہ سمجھا جائے کہ حکومت کے پاس اختیار نہیں تو پھر بغیر کسی بنیادی سمجھ بوجھ کے مذاکرات کی دعوت دینا ممکن ہی نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کو اسپیکر ہاؤس میں بات چیت کی پیشکش بھی کی گئی مگر سینئر رہنماؤں نے کہا کہ انہیں اس کی اجازت نہیں۔

پی ٹی آئی ارکان نے خواہش ظاہر کی کہ ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے تاکہ وہ انہیں موجودہ صورتحال پر قائل کر سکیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نواز شریف نے ہمیشہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی، لوگ اداروں کے سیاسی کردار سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن افواج پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔

ان کے مطابق تحریک انصاف اس فرق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتی اور اداروں کے خلاف گفتگو کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز نے پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا جبکہ بانی پی ٹی آئی کی سیاست اب مکمل طور پر محاذ آرائی پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، افغان علماء کا بڑا فیصلہ

پروگرام میں شریک پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے بھی اعتراف کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اس وقت ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت سے کہا کہ ایسا ماحول دیا جائے جس سے معلوم ہو کہ وہ بااختیار ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔

ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے پہلے بھی ملاقاتیں اکثر مہینوں معطل رہتی تھیں، جبکہ بشریٰ بی بی نے کبھی سیاسی گفتگو نہیں کی، اس کے باوجود ان کی اہلِ خانہ سے ملاقات کیوں روکی جا رہی ہے؟

علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے، عدت سمیت ایسے کیسز بنائے گئے جن کا سیاسی مقبولیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مطابق تمام تر مقدمات کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کم نہیں کی جا سکی۔

Scroll to Top