پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ وہ واٹر کینن یا حکومتی دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوتیں اور اپنے بھائی کو ہرگز اکیلا نہیں چھوڑیں گی۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے عدالتی کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم آج عدالت سے کچھ دیر لیٹ ہوئے تو فوراً غیر حاضری لگا دی گئی، یہ سراسر غیر قانونی عمل ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی سے دو ماہ میں صرف 40 منٹ ملاقات کی اجازت دی گئی جبکہ بانی پی ٹی آئی سے صرف ایک گھنٹہ ملاقات ہو پائی ہے، جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
علیمہ خان نے بعض حکومتی شخصیات کے بیانات پر بھی سخت ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو کہتے ہیں کہ خواتین رات دو بجے کیا کر رہی تھیں۔ ہم اپنے حق کے لیے رات دو بجے بھی جیل کے باہر بیٹھ سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی قیادت اور کارکن کسی دباؤ اور ریاستی جبر کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
عدالتی کارروائی اور ضمانتی مچلکوں کی ضبطی واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔عدالت میں 26 نومبر کے احتجاج کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کو طلب کیا گیا تھا، تاہم علیمہ خان اور ان کے وکیل عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔
عدالتی فیصلے کے بعد علیمہ خان کے ممکنہ قانونی آپشنز اور آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔





