حمداللہ خان
صوبائی حکومت نے ایبٹ آباد میں لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) تشکیل دیدی۔
جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق خیام حسین کو صوبائی انسپیکشن ٹیم کے انچارج اور کمیٹی کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
کمیٹی میں ایبٹ آباد کے ڈی پی او ہارون الرشید، ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور پراسیکیوشن ڈائریکٹوریٹ کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ جی آئی ٹی میں سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کے ایک ایک نمائندے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیوں کی ؟ سفارتی اداب کو پامال کیوں کیا ؟ وزارت خارجہ کا ناروے سفیر کو سخت ترین مراسلہ
واضح رہے کہ دو روز قبل صوبائی حکومت نے ڈاکٹر وردہ مشتاق قتل کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی منظوری سے خط چیف سیکرٹری کو ارسال کر دیا گیاتھا۔
خط میں کیس کی حساسیت اور عوامی غم و غصے کے باعث جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ، جے آئی ٹی کی سربراہی صوبائی حکومت کے سینئرسول افسر کے سپرد کرنے کی تجویز کی گئی۔
خط میں جے آئی ٹی میں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ایبٹ آباد پولیس اور پراسیکیوشن کی شمولیت کی سفارش کی گئی ۔
چیف سیکرٹری کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا کہ ڈاکٹر وردہ 4 دسمبر کو لاپتا ہوئیں، 5 دسمبر کو ایف آئی آر درج کی گئی، ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا ساتھی ڈاکٹر کے سپرد کیا تھا، واپس نہ ملنے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔
خط میں کہا گیا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ڈاکٹر وردہ کو اغوا اور قتل کرکے لاش لاری بنوٹا جنگل میں چھپائی، سی سی ٹی وی، سی ڈی آرز اور تفتیش سے ملزمان کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہوا۔
خط کے مطابق ایبٹ آباد پولیس نے تین ملزمان گرفتارکرلیے، مرکزی ملزم کی تلاش جاری ہے، مزید جامع، آزاد اور ملٹی ایجنسی انکوائری کیلئے جے آئی ٹی ضروری قرار دی گئی ۔





