برطانیہ میں موجود بھگوڑے یوٹیوبر عادل راجہ نے لندن ہائیکورٹ کی ہدایت پر تسلیم کرلیا کہ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) رشید نصیر کے خلاف ان کی جانب سے عائد کردہ تمام الزاماات جھوٹے، بے بنیاد اور توہین آمیز تھے۔
لندن ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ عادل راجہ کے پاس نصیر کے خلاف لگائے گئے الزامات کا کوئی دفاع موجود نہیں ہے۔
ڈپٹی ہائیکورٹ جج رچرڈ اسپیئر مین کے سی کے احکامات کے مطابق عادل راجہ نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ ایکس، فیس بک، یوٹیوب اور اپنی ویب سائٹ پر عدالت کے فیصلے کا خلاصہ شائع کیا۔
By a judgment dated 9th October 2025 I was ordered by the High Court in London to pay Mr Rashid Naseer £50,000 in damages for libel, in addition to
his legal costs, on the grounds that between 14 and 29 June 2022 I made a number of defamatory allegations about him and I had no…— Adil Raja (@soldierspeaks) December 11, 2025
عادل راجہ نے تسلیم کیا کہ 9 اکتوبر 2025 کو ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ انہیں بریگیڈیئر نصیر کو 50,000 پاؤنڈ (تقریباً 2 کروڑ روپے) بطور ہرجانہ ادا کرنے ہوں گے۔
عدالت نے انہیں قانونی اخراجات کے طور پر مزید 260,000 پاؤنڈ کی ادائیگی کا بھی حکم دیا جو 22 دسمبر 2025 تک ادا کی جائیں گی۔
عدالت نے حکم دیا کہ یہ معافی نامہ اور فیصلے کا خلاصہ 28 دن تک عوامی طور پر ان کے تمام پلیٹ فارمز پر موجود رہنا چاہیے۔
عادل راجہ نے خلاصے میں اعتراف کیا کہ 14 جون سے 29 جون 2022 کے درمیان انہوں نے بریگیڈیئر نصیر کے خلاف متعدد بدنام کرنے والے الزامات لگائے جن میں بدعنوانی، انتخابات میں دھاندلی، عدالتی مداخلت اور سیاسی نتائج پر اثراندازی شامل تھے۔
عدالت نے ان الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور عادل راجہ کے کسی بھی دفاع کو مسترد کر دیا۔
جج اسپیئرمین نے عادل راجہ کو ہدایت کی کہ وہ بریگیڈیئر نصیر، ان کے ایجنٹس یا معاونین کے خلاف مزید کوئی بھی توہین آمیز بیان نہ دیں۔





