لندن ہائی کورٹ نے بریگیڈیئر (ر)راشد نصیرکے حق میں فیصلہ سنایا اور عادل راجہ کے تمام الزامات کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا۔
عدالت نے عادل راجہ کو بریگیڈیئر راشد نصیر کو پچاس ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔
علاوہ ازیں، عادل راجہ کو فوری طور پر 260,000 پاؤنڈ بطور عبوری اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔ تمام ادائیگیاں 22 دسمبر 2025 تک مکمل کرنا ضروری ہیں۔
عدالت نے عادل راجہ کو پابند کیا ہے کہ وہ فیصلے کا خلاصہ 28 دن تک تمام پلیٹ فارمز پر نمایاں طور پر شائع کریں اور جھوٹے دعوے دہرانے سے باز رہیں۔ خلاف ورزی کرنے پر توہین عدالت، جرمانہ یا قید ہو سکتی ہے۔
عدالت کے مطابق جون 2022 میں کیے گئے الزامات، جو پنجاب الیکشن، مبینہ ملاقاتوں اور “ریجیم چینج” سے متعلق تھے، بے بنیاد اور حقیقت سے عاری تھے۔ یہ الزامات شخصیت کشی پر مبنی تھے اور کسی حقیقی ثبوت پر مبنی نہیں تھے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عادل راجہ کے الزامات نے بریگیڈیئر راشد نصیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جو غلط ثابت ہوئی۔ حساس نوعیت کے الزامات کو کلی طور پر ممنوع قرار دیا گیا اور عادل راجہ کے بیانیے کو بدنیتی اور جھوٹ کا مجموعہ کہا گیا۔





