خیبرپختونخوامیں بھنگ کی قانونی کاشت ،لائسنسنگ اور پروسیسنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت

محمداعجا زآفریدی
پشاور:خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بھنگ کی باقاعدہ قانونی کاشت، لائسنسنگ اور پروسیسنگ کے حوالے سے اہم پیشرفت کرتے ہوئے لائسنس فیس، ٹیکس ڈھانچے، کاشت کاری زونز، سالانہ کوٹہ اور قواعد و ضوابط کے مسودے کی تیاری کےلئے سب کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں حتمی سفارشات پیش کرے گی۔

یہ فیصلے کینابیس ریگولیٹری کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں کیے گئے جوکو محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کی زیر صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیر ایکسائز فخر جہان، وزیر صحت خلیق الرحمان، وزیر قانون آفتاب عالم، سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس، ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان، ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال راؤ، ایڈوکیٹ جنرل کے نمائندے، محکمہ صحت کے نمائندے، یونیورسٹی آف پشاور کے پروفیسر ، پی سی ایس آئی آر، بورڈ آف ریونیو، ایگریکلچر، ہوم ڈیپارٹمنٹ، کیپیڈک، اور نارکوٹکس و دیگر محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

اجلاس میں کینابیس ریگولیٹری نظام کے لئے مختلف امور پر بریفنگ پیش کی گئی، جس میں لائسنس فیس، ایکسائز ڈیوٹی، کاشت کاری زونز، کاشتکاروں کی رجسٹریشن اور صنعت کے لئے قواعد شامل تھے۔

پختون ڈیجیٹل کے پاس موجود اجلاس کی کارروائی کے مطابق کمیٹی کے سامنے لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی کا فیصلہ،ضلع خیبر، اورکزئی اور کرم کے کسانوں کی رجسٹریشن، ،کاشتکاروں کی نمائندگی کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، کینابیس ماڈل اور سالانہ کوٹہ مقرر کرنا، قواعد میں ترمیم اور پروسیسنگ ریگیم کا آغاز،صوبے میں بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ کا آغازکرنے جیسے نکات ایجنڈے میں رکھے گئے ۔

کمیٹی نے اتفاق کیا کہ خیبر پختونخوا میں پہلے مرحلے میں بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ کی اجازت دی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں کینابیس لائسنسنگ ریگیم شروع کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ باور کرایا گیاکہ بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ ریگیم صوبائی سرمایہ کاری، ادویات، صنعتی مقاصد اور تحقیق کے لئے ہوگی۔

اس موقع پرکمیٹی نے تکنیکی سفارشات تیار کرنے اور قانونی ڈیڈ لائن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کےلئے 17 رکنی سب کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ، ایگریکلچر، یونیورسٹی آف پشاور، پی سی ایس آئی آر، ایڈوکیٹ جنرل آفس، صنعت و سرمایہ کاری بورڈ، فارما انڈسٹری اور دیگر محکمے شامل ہیں۔

سب کمیٹی کو ٹاسک دیا گیاہے کہ سب کمیٹی کینابیس لائسنسنگ کے لئے لائسنس فیس اور ٹیکس کا تعین کرے گی جبکہ بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ کے لئے دستاویزی قواعد و ضوابط تیار کر ے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں کینابیس لائسنسنگ نظام کے لئے جامع سفارشات حکومت کو دے گی تاکہ حکومت ان سفارشات کی روشنی میں آگے کی کارروائی کو ممکن بناسکے۔

سب کمیٹی کو وقت دیا گیاہے کہ کمیٹی کو سات روز کے اندر اپنی سفارشات حکومت کو جمع کرے گی۔

اس سلسلے میں متعلقہ حکام نے بتایاکہ صوبائی حکومت کی یہ پیشرفت نہ صرف بھنگ کی سائنسی و صنعتی استعمال کو فروغ دے گی بلکہ خیبر پختونخوا میں نئی قانونی صنعت کے قیام سے روزگار، ریونیو، فارماسیوٹیکل شعبے، تحقیق اور برآمدات کے مواقع بڑھنے کا امکان ہے۔

Scroll to Top