ایبٹ آباد میں قتل ہونے والی ڈاکٹر وردہ سے متعلق تحقیقات کے لیے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم آج اپنی رپورٹ مکمل کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور شواہد کی روشنی میں رپورٹ کو حتمی شکل دی ہے۔
تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے اہلِ خانہ، عینی شاہدین، متعلقہ اداروں کے افسران اور دیگر اہم شخصیات کے بیانات قلمبند اکیے، ان بیانات اور دستیاب شواہد کو رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کی جائے گی جس کے بعد کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
واضح رہے ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں جے آئی ٹی 12 دسمبر 2025 کو تشکیل دی گئی تھی، خیبر پختونخوا حکومت نے کیس کی حساسیت اور عوامی مطالبے کے پیشِ نظر ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جس میں مختلف اداروں کے سینئر نمائندے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد، ڈاکٹر وردہ قتل کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
ڈاکٹر وردہ 4 دسمبرکو ایبٹ آباد میں اغوا ہونے کے بعد قتل کی گئی تھیں، اُن کا اغوا اسی دن بینظیر بھٹو شہید ہسپتال ایبٹ آباد کے باہر سے ہوا اور ان کی لاش چند دن بعد جنگل علاقے سے برآمد ہوئی۔
ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں مرکزی ملزم شمریز پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے، پولیس کارروائی تھنڈیانی کے قریب ہوئی جہاں ملزم فرار کے دوران پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔
واقعے میں شمریز کے ساتھی بھی فائرنگ میں ملوث تھے جبکہ دیگر چند ملزمان فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔





