وفاق سے صوبے کا حق لے کر رہیں گے،فیصل کریم کنڈی نے حتمی اعلان کردیا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کا مقدمہ دلیل سے لڑیں گے، وفاق سے حق لے کر رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ صوبے کے حقوق کے معاملے پر وفاق سے بات دلیل اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر کی جائے گی اور صوبے کا حق ہر صورت لے کر رہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس جدوجہد میں وزیراعلیٰ کے شانہ بشانہ بلکہ ان سے دو قدم آگے کھڑے ہوں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بارہا سر پر کفن باندھنے اور جنازے نکلنے جیسے دعوے کیے گئے، تاہم آج وہ تمام دعوے دم توڑ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں جبکہ پارٹی کے کچھ عناصر خود نہیں چاہتے کہ وہ باہر آئیں کیونکہ اس سے ان کی سیاسی حیثیت ختم ہو جائے گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی کسی بھی سیاسی مخالف کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھے، مگر آج ان کی جماعت مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مذاکرات کی پیشکش قبول کی ہے، جو جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنا بے سود ہے، اصل مسائل کرم ایجنسی میں ہیں جہاں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ اور پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے کیونکہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بھتہ خوری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور جہاں کہیں بھی ایسی سرگرمیاں سامنے آئیں گی، ریاست سخت کارروائی کرے گی۔ گورنر نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل تعاون فراہم کریں تاکہ جرائم میں واضح کمی لائی جا سکے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ افغان باشندوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وطن واپس جائیں اور قانونی طریقہ کار کے تحت ویزا حاصل کر کے پاکستان آئیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کی سرزمین بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

آخر میں گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب پاکستان چار دن میں بھارت کو مؤثر جواب دے سکتا ہے تو مٹھی بھر شرپسند عناصر کو بھی بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینا کوئی مشکل کام نہیں

Scroll to Top