مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے جو کبھی پاکستان کا غرور تھی آج ناقص کارکردگی کے باعث ایک ڈیفالٹ ادارہ بن چکی ہے۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی بے جا بھرتیوں اور مسلم لیگ (ن) کی غیر فیصلہ سازی نے قومی ایئرلائن کو اس نہج پر پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل 2015 سے التوا کا شکار تھا، جسے اب جا کر مکمل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا نیا کارنامہ،چوکیدار سب انجینئر کی پوسٹ پر تعینات
مشیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ 135 ارب روپے میں ہونے والی نجکاری سے حکومت کو صرف 7.5 فیصد رقم حاصل ہوگی، جو بمشکل کنسلٹنٹس کی فیس کے برابر بنتی ہے۔پی آئی اے پر موجود تقریباً 700 ارب روپے کے واجبات بھی حکومت نے اپنے ذمے لے لیے ہیں، جو بالآخر عوام پر مزید ٹیکس لگا کر پورے کیے جائیں گے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ بہرحال دیر آیا درست آیا،اس پر حکومت کو کریڈٹ لینے کے بجائے قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔





