چوکیدار کو سب انجینئر کی ذمہ داری سونپنے کامعاملہ،اعلی سطح پر کاروائی شروع

محمد اعجاز آفریدی
محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا میں ایک متنازع دفتری حکم نامے کے بعد اعلی سطح پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

آپریٹر کم چوکیدار کو سب انجینئر کے اختیارات دینے کے معاملے پر محکمہ اسٹیبلشمنٹ نے چیف انجینئر سنٹر پشاور سے تین دن کے اندر وضاحت طلب کر لی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق چیف انجینئر سنٹر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پشاور نے 16 دسمبر 2025 کو ایک دفتری حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت انور سعادت، جو کہ ایگزیکٹو انجینئر پی ایچ ای ڈویژن ٹانک کے دفتر میں بطور آپریٹر کم چوکیدار تعینات ہیں کو سب انجینئر کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا اسمبلی میں 20 سے زائد ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت، کارروائی کا فیصلہ

حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ فیصلہ عوامی مفاد میں اور فوری ضرورت کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔تاہم مذکورہ فیصلہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گیا، جس کے بعد پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کےاسٹیبلشمنٹ سیکشن نےچیف انجینئر کے نام باضابطہ وضاحتی نوٹس جاری کر دیا۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ غیر ٹیکنیکل اور نچلے درجے کے ملازم کو سب انجینئر جیسے تکنیکی عہدے پر تعینات کرنا قواعد و ضوابط کے منافی ہے، جس پر محکمہ کو عوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔

چیف انجینئر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین دن کے اندر ٹھوس وجوہات کے ساتھ اپنی پوزیشن واضح کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قواعد کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف انتظامی اختیارات کے ناجائز استعمال سے جڑا ہے بلکہ اس سے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں پیشہ ورانہ اہلیت، شفافیت اور گورننس پر بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وضاحت غیر تسلی بخش رہی تو معاملہ مزید انکوائری اور کارروائی کی طرف جا سکتا ہے۔

Scroll to Top