پی ٹی آئی یا ن لیگ، سب کے لیے اصول واضح!وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سیاسی تنقید کے لیے دوٹوک اصول بتا دیے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) غلط ہو وہاں اخلاقی حدود میں رہ کر اُس پر تنقید ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی طرح مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید تہذیب اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کے خلاف جو کچھ کر رہی ہے اُس پر سب کو آواز اٹھانی چاہیے اور عوام کو حق اور سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ پارلیمنٹ اور قانونی دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے یورپ لاہور کی بہت سیر کر چکا ہے، اب خدا کے لیے واپس تشریف لے جائیں اور خیبرپختونخوا کے عوام کی بھی داد رسی کریں، ان کی بھی سنیں۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ کل رات سے بنگلہ دیش کی تصویریں لگاکر خوش ہو رہے تھے، لیکن آج دن کی روشنی میں اسٹریٹ موومنٹ کا پول کھل گیا، اور اسٹریٹ موومنٹ والوں کو نعروں کا جواب دینے والا کوئی نہ ملا۔
سہیل آفریدی اور عظمیٰ بخاری کے بیانات کے درمیان یہ اختلاف سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے، جس پر عوام اور صحافی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔





