گوجرانولہ میں سوات کے دو نوجوانوں کے ساتھ واقعہ،وزیراعلی کا بڑا حکم جاری

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہاکہ وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے گوجرانوالہ میں سوات سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کی ہلاکت کی تحقیقات کیلئے انکوائری کا حکم دیا ہے۔

کابینہ کے اجلاس کی تفصیلات اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موٹر وے پر ریسٹ ایریا اور بیرا انٹرچینج کو سیل کیا گیا اور جو لوگ وزیراعلیٰ کے قافلے کے ساتھ چلنا چاہتے تھے انہیں روکا گیا، 11 ورکرز کو گرفتار کیا گیا، خیبرپختونخوا سے قافلے کے ساتھ جانے والے 11 ورکرز کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ایسا منظر پیش کیا جا رہا تھا کہ ہم کسی اور ملک سے آرہے ہوں۔ لاہور انٹری پر ناکے بند کیے گئے اور موٹر وے پر ہزاروں گاڑیاں بند کی گئیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنظیموں کے عہدیداروں سے ملنا اور بار کونسل میں خطاب کرنا تھا، لیکن ہمارے آتے ہی کرسمس ایونٹ میں مسیحی برادری کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ پنجاب اسمبلی میں جو ہوا وہ انتہائی قابل مذمت ہے، اسمبلی سے آدھا کلومیٹر پہلے لوگوں کو چیک کیا گیا اور لسٹ کے مطابق انہیں اندر جانے دیا گیا، یہ بدانتظامی خود بنائی گئی۔ پنجاب اسمبلی کے دورے پر جو صحافی کی شکل میں یوٹیوبر بھیجے گئے وہ صحافی نہیں تھے، راہدری میں جعلی 9 صحافیوں کو واٹس ایپ پر مخصوص سوالات بھیجے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا دورہ پنجاب حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، وزیراعلیٰ پنجاب ایئر فورس کے جہاز پر بیرون ملک دورے پر گئیں تھیں اور ہمارے واپس آنے پر 80 کارکنوں پر مقدمات درج کیے گئے۔ پنجاب کے لوگوں کا دل بہت بڑا ہے لیکن موجودہ حکومت نے روایت پامال کی۔

شفیع جان نے کہاکہ اگر ہم پنجاب کا ایک اور دورہ کریں تو لوگ سمجھیں گے اصل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہیں۔ ہمیں پروٹوکول کے ساتھ کسی بھی چوک میں نکل کر لگ پتہ چلے گا۔ ہمیں کنٹونمنٹ بورڈ میں داخلے سے روکا گیا تو ہمیں نو مئی یاد آیا کہ کیسے اس وقت کینٹ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم دوبارہ لاہور جائیں گے، اگلی منزل کراچی ہے جس کے بعد بلوچستان بھی جائیں گے۔ سٹریٹ موومنٹ کا آغاز ہو چکا ہے اور وزیراعلیٰ ہر صوبے کا دورہ کریں گے۔ لاہور میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا سرکاری سطح پر اس کی مذمت کرتے ہیں اور جب بھی وزیراعلیٰ پنجاب خیبرپختونخوا آئیں گے، سرکاری پروٹوکول کے مطابق عزت دی جائے گی۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب کوئی جلسہ کریں تو سٹیج ہم سجائیں گے۔

معاون خصوصی نےکہاکہ گجرانوالہ میں خبیرپختونخوا کے دو شہری جعلی مقابلوں میں جاں بحق ہوئے جس پر وزیراعلیٰ نے انکوائری کا حکم دیا۔

انہوں نے کہاکہ تیراہ آپریشن کے لیے حکومت نے کوئی فنڈز منظور نہیں کیے اور خیبرپختونخوا میں کسی بھی ملٹری آپریشن کے لیے حکومت کی رضامندی کے بغیر اجازت نہیں ہوگی۔ صوبائی حکومت نے آپریشن ضرب عضب میں متاثرہ لوگوں کو ساڑھے چار ارب روپے کا گرانٹ دیا۔

انہوں نے کہاکہ سرکاری سکولوں میں خالی آسامیاں مکمل کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ زمان پارک کے چاروں اطراف کو سیل کیا گیا اور صرف ایک راستے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا گئے۔ پنجاب دورے کے موقع پر لیبرٹی چوک میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گاڑی پر حملہ بھی ہوا اور کوٹ لکھپت اور کنٹونمنٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نےمذید کہا کہ ملک احمد خان شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنیں۔ ابھی تک کوئی افغان کیمپ خالی نہیں کیا گیا اور جبری بے دخلی کا حکم نہیں دیا گیا۔ کوئی بھی افغان فیملی اپنی مرضی سے جانا چاہتی ہے تو انہیں سہولت فراہم کی جائے گی۔ سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا سمیت تمام لیڈر شپ لاہور دورے پر موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری خود ایک لوٹا ہیں اور مختلف پارٹیوں میں رہی ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے پٹھانوں اور پنجابیوں کو لڑانے کی کوشش کی، مسلم لیگ صرف پنجاب کی پارٹی بن چکی ہے، جیسا کہ پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہے۔

شفیع جان نےکابینہ کے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد میں سمال انڈسٹری کے بورڈ کے لیے کمیشن کی منظوری دی گئی، سود سے پاک خیبرپختونخوا کے لیے تکافل کمپنیوں کی منظوری دی گئی، سی پیک اکنامک زون کے لیے فنڈز، احساس پروگرام کے لیے فنڈز اور سکول لیڈروں کے لیے 1144 ملازمین کی تین سالہ توسیع کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ سیف سٹی پراجیکٹ کے تین ہزار 8 سو 25 ملین گرانٹ منظور کیے گئے اور ڈی آئی خان، بنوں اور دیگر دو شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ بڑھایا جائے گا۔

Scroll to Top