شہدائے اے پی ایس یونیورسٹی پر آج تک ایک اینٹ بھی نہ لگ سکی، اختیار ولی

ڈائیلاگ کی گنجائش نہ رہی، پی ٹی آئی نے سب کچھ خود خراب کیا، اختیار ولی خان

معاون خصوصی وزیراعظم اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور اہم موقع ضائع کر دیا ہے اور موجودہ حالات میں کسی قسم کے ڈائیلاگ کے امکانات نظر نہیں آتے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود تحریک انصاف نے لندن میں احتجاج کا راستہ اختیار کیا، جہاں جو بیانیہ اپنایا گیا اس نے فضا کو مزید کشیدہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں تعمیری مذاکرات ممکن دکھائی نہیں دیتے۔

اختیار ولی خان نے واضح کیا کہ حکومت کے لیے تحریک انصاف سے مذاکرات کوئی مجبوری نہیں ہیں اور نہ ہی حکومت کو اس سے کوئی فائدہ یا نقصان وابستہ ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے رویے اور فیصلوں سے معاملات خود خراب کیے ہیں اور بار بار ملنے والے مواقع ضائع کیے جا رہے ہیں۔

معاون خصوصی وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورۂ پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طے پایا تھا کہ پنجاب اسمبلی آمد پر روایتی مہمان نوازی کی جائے گی اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے جائیں گے، تاہم تحریک انصاف کی جانب سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ یہ سب ممکن نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کے نام پر وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔

اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ اگر ماضی کی مخصوص باقیات نہ ہوتیں تو خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بھی قائم نہ رہتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مریم نواز کو پشاور میں جلسے کی دعوت دیں گے اور ایسا جلسہ کر کے دکھائیں گے جس سے سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بدتمیزی اور غیر مہذب رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہارِ رائے کے نام پر نازیبا زبان کا استعمال ناقابل قبول ہے، اگر گالی گلوچ نہ کی جاتی تو صورتحال اس حد تک خراب نہ ہوتی۔
اختیار ولی خان کے ان بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے پر بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ مذاکرات کے امکانات مزید کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

Scroll to Top