چارسدہ، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شبقدر میں بڑے اسکینڈل کا انکشاف

چارسدہ  کی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شبقدر میں بڑے پیمانے پر غیر حاضر ملازمین اور مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر حجرت اللہ 11 اکتوبر 2024 سے، ڈاکٹر طفیل احمد جنوری 2023 سے اور ڈینٹل سرجن ڈاکٹر سائمہ راحت بیرونِ ملک ہونے کے باوجود تنخواہیں لیتے رہے۔

چارج نرس عالیہ غنی دو سال سے غیر حاضر تھیں جبکہ ڈاکٹر اسد خان اور پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد امجد بھی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے، ڈاکٹر مستجاب بیگم تبادلے کے باوجود غلط جگہ سے تنخواہ حاصل کرتی رہیں۔

ہسپتال مینجمنٹ کمیٹی کے اکاؤنٹ میں بھی سنگین مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جنوری تا ستمبر 2025 کے دوران HMC اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے خرچ ہوئے جبکہ ستمبر 2025 میں کل بیلنس صرف 20 لاکھ 37 ہزار روپے تھا، صرف ایک ماہ میں 19 لاکھ 98 ہزار روپے اخراجات کے بعد اکاؤنٹ میں صرف 4 ہزار 19 روپے باقی تھے۔

اس سلسلے میں ہسپتال فنڈز کے استعمال کی وضاحت طلب کی گئی ہے اور مالی معاملات میں شفافیت نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،ہسپتال مینجمنٹ کمیٹی اخراجات کا آڈٹ ناگزیر ہے اور اخراجات کی وضاحت اور جواز فوری طور پر طلب کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: چارسدہ ڈی ایچ کیو ہسپتال نے مریضوں کی خدمت میں نیا سنگ میل عبور کرلیا

ڈاکٹر محمود جان پر نجی لیبارٹریوں کو مریض ریفر کرنے کا الزام بھی عائد ہوا جس کے بعد انہیں ڈی ایم ایس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ہسپتال میں غیر قانونی او پی ڈی دروازہ بند ہونے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم فراہمی پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

ایپکا ضلع چارسدہ کے جنرل سیکریٹری شاہد علی نے کہا کہ صورتحال سنجیدہ ہے اور متعلقہ حکام فوری کارروائی کریں تاکہ عوامی اعتماد بحال کیا جا سکے۔

Scroll to Top