متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنے فوجی دستے واپس بلا لیے

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے یمن میں تعینات اپنے فوجی دستے واپس بلا لیے ہیں۔

اماراتی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کے بعد فوجیوں کو محفوظ طریقے سے واپس لایا گیا۔

وزارت دفاع نے کہا کہ یہ اقدام یو اے ای کی اپنی حکمت عملی کے تحت کیا گیا اور فوجی مشن یمن میں شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں انجام پایا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام فوجی عملہ اپنی حفاظت کے ساتھ وطن واپس پہنچ گیا ہے۔ یہ فیصلہ چند روز قبل یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کی جانب سے یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدے کے خاتمے اور اماراتی فوجیوں کو ملک چھوڑنے کے حکم کے بعد سامنے آیا۔

یمن کی جانب سے اس حکم کے بعد سعودی عرب نے بھی یو اے ای سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فراہم نہ کرے۔

یو اے ای نے سعودی عرب کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے تمام الزامات مسترد کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈیجیٹل رسائی میں حیرت انگیز اضافہ، خیبر پختونخوا سب سے آگے

دوسری جانب جنوبی یمن میں علیحدگی پسند گروپ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے جنوبی ریاست کے قیام کے لیے 2 سالہ منصوبہ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

گروپ نے کہا کہ وہ جنوبی یمن کے لیے نیا آئین اپنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ اقدام علیحدگی نہیں بلکہ ریاست کی مکمل خودمختاری کی جانب ایک قدم ہے۔

یمن میں اس طرح کے اقدامات خطے میں سیاسی کشیدگی اور عسکری حالات پر اثر ڈال سکتے ہیں، جبکہ یو اے ای کا فوجی انخلا اور جنوبی یمن میں علیحدگی پسند گروپ کا اعلان خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

Scroll to Top