کنٹونمنٹ بورڈ پشاور نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو پروفیشنل ٹیکس کی وصولی سے روک دیا

محمد اعجاز آفریدی

کنٹونمنٹ بورڈ پشاور نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا کو کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقوں میں پروفیشنل ٹیکس کی وصولی سے روک دیاہے۔

کینٹونمنٹ بورڈ نے موقف اپنایاہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ ز وزارت دفاع کے زیر انتظام ہے اسلئے یہاں پر صوبائی قوانین کی عمل داری نہیں ہوسکتی اور واضح کردیاہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کنٹونمنٹ علاقوں میں نہ تو پروفیشنل ٹیکس عائد کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی وصولی کا مجاز ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کی جانب سے سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خیبرپختونخوا کے نام جاری کیے گئے مراسلے میں آئینی اور قانونی نکات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

مراسلے کے مطابق پروفیشنل ٹیکس ایک مقامی نوعیت کا ٹیکس ہے جس کی وصولی کا اختیار مقامی اداروں کو حاصل ہوتا ہے۔ کنٹونمنٹ علاقوں کے معاملے میں یہ اختیار کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کے تحت کنٹونمنٹ بورڈ کو دیا گیا ہے، جو ایک وفاقی قانون ہے۔

مراسلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز وفاقی حکومت اور وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں مسلح افواج تعینات ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے کنٹونمنٹ علاقوں سے متعلق قانون سازی وفاقی دائرہ اختیار میں آتی ہے۔کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے مطابق آئین تحت کنٹونمنٹ ایریاز سے متعلق قانون سازی وفاقی حکومت کے اختیارات میں شامل ہے۔ اگرچہ آئین کے تحت صوبائی حکومتیں پروفیشنل ٹیکس عائد کر سکتی ہیں، تاہم یہ اختیار کنٹونمنٹ علاقوں پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ یہ علاقے وفاقی قانون کے تابع ہیں۔

مراسلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی کا کوئی قانون پارلیمنٹ کے قانون سے متصادم ہو تو آئین کے مطابق پارلیمنٹ کا قانون بالادست تصور کیا جاتا ہے۔

مراسلے میں عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 13 اکتوبر 2023 کو ایک عدالتی فیصلے میں کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے پروفیشنل ٹیکس عائد کرنے کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس قانونی ابہام کو دور کرنے کے لئے کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 میں ترمیم کر دی گئی۔ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 60 کو دوبارہ نافذ کیا گیا، جس کے تحت کنٹونمنٹ بورڈ کو شیڈول سات میں درج ٹیکسز، فیس اور دیگر چارجز عائد اور وصول کرنے کا اختیار دیا گیا۔ شیڈول سات میں پروفیشنل ٹیکس کو باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔

مراسلے میں بتایا گیاہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاقی قانون ساز فہرست میں بھی ترمیم کی گئی، جس کے بعد کنٹونمنٹ علاقوں میں مقامی ٹیکسز اور فیس سے متعلق قانون سازی کا اختیار واضح طور پر وفاق کو حاصل ہو گیا۔

مراسلے کے مطابق اس ترمیم کے بعد 13 اکتوبر 2023 کا عدالتی فیصلہ موثر نہیں رہا۔کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے مطابق اس معاملے پر اس سے قبل بھی 30 اپریل 2025 کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ 30 جون 2025 کے بعد کنٹونمنٹ علاقوں میں پروفیشنل ٹیکس کی وصولی بند کر دی جائے، تاہم صوبائی محکمہ نے اس ہدایت پر عمل نہیں کیا۔اب کنٹونمنٹ بورڈ پشاور نے ایک بار پھر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ کنٹونمنٹ علاقوں میں فوری طور پر پروفیشنل ٹیکس کی وصولی روکی جائے اور اس حوالے سے تحریری طور پر کنٹونمنٹ بورڈ کو آگاہ کیا جائے۔

Scroll to Top