خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی بن چکی ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کے ساتھ قربت اختیار کر چکی ہے اور اگر دہشتگردوں کے خلاف کسی آپریشن کا فیصلہ کیا جائے تو وہ وفاقی کابینہ کا حق ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں کیے گئے بیانات حقائق پر مبنی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا دہشتگردی کے معاملے میں رویہ مناسب نہیں اور یہ کہنا کہ آپریشن نہیں ہونے دیا جائے گا، دہشتگردوں کی حمایت کے مترادف ہے۔

وزیر دفاع نے کہاآپریشن نہ ہونے دینا، زیادتی روکنے والے کے بجائے زیادتی کرنے والے کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

جب افواج جنگ لڑ رہی ہیں تو سیاسی مصلحتیں نہیں چلتی، یہ ملک ہم سب کا ہے اور اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کے زیر اثر ہے اور دشمن چاہے بھارت ہو یا دہشتگرد، ان کے ساتھ سلوک وہی ہوگا جو دہشتگردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن قائم کرنے کے لیے حکومت نے کابل حکومت سے براہ راست بات کی اور دوست ممالک کو بھی ثالثی کے لیے تیار رہنے کی دعوت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کو چاہیے کہ دہشتگرد تنظیم ٹی ٹی پی سے اپنے اتحاد کا اعلان کردے،سینئرصحافی عمر چیمہ

انہوں نے پی ٹی آئی کے کچھ ارکان کے ممکنہ سیاہ ارادوں پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دینے میں بدنیتی پائی جاتی ہے۔

وزیر دفاع نے زور دیا کہ کسی بھی پارٹی پر پابندی یا گورنر راج نہیں لگنا چاہیے اور تحریک انصاف اپنی شناخت برقرار رکھے۔

ساتھ ہی انہوں نے جنرل (ر) باجوہ اور فیض حمید کی جانب سے طالبان کے حوالے سے بریفنگز دینے کا بھی ذکر کیا۔

Scroll to Top