اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فیصلوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈر کے لیے کسی اور شخصیت کو نامزد کیا گیا، جو پارٹی کی اندرونی فیصلہ سازی پر کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔
شیر افضل مروت نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسے فیصلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور کیا کوئی ایک فیصلہ بھی درست ثابت ہوا؟
انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو اس موجودہ سیاسی صورتحال میں پہنچانے کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر بھی عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر سیاسی اختلافات کے باوجود یہ ضروری ہے کہ فیصلے شفاف اور پارٹی کی بنیادی اقدار کے مطابق کیے جائیں۔
اس موقع پر نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام ہونے والی نیشنل کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی، لیاقت بلوچ، شیر افضل مروت، بیرسٹر سیف اور عمران اسماعیل نے شرکت کی۔
کانفرنس میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ ملک میں پولیٹیکل پولرائزیشن کے باعث سیاسی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، اور ایسے ڈائیلاگ ملک کو درپیش مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی بن چکی ہے، خواجہ آصف
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض سیاسی جماعتیں اس کانفرنس میں شامل نہیں ہوئیں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
شیر افضل مروت نے زور دیا کہ پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان اختلافات کو کم کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے بعد موجودہ سیاسی صورتحال واضح ہو جائے گی اور حکومت کو اس کے ممکنہ اثرات سے آگاہ ہونا چاہیے۔





