اسلام آباد: مون سون 2026 سے قبل ممکنہ نقصانات سے نمٹنے اور پیشگی تیاریوں کو یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں این ڈی ایم اے کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں نیشنل انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام 2026 کے تحت ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے منظور شدہ یہ پروگرام وفاقی اور صوبائی سطح پر نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت خطرات سے دوچار اہم تعمیرات اور تنصیبات کا ترجیحی بنیادوں پر تفصیلی آڈٹ کیا جائے گا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران بڑے نقصانات کی بنیادی وجہ غیر معیاری اور بغیر منصوبہ بندی کی گئی تعمیرات ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ آفات کے بعد ردِعمل کے بجائے پیشگی تحفظ، خطرات کی بروقت نشاندہی اور تدارک پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق نیشنل انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام تعمیرات کو محفوظ بنانے اور نقصانات میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ سیمینار کا مقصد وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام میں جدید تکنیکی اصولوں پر مبنی طریقہ کار اور ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم شامل کیے گئے ہیں تاکہ شفاف اور مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان رواں سال او آئی سی کے بڑے اجلاس کی میزبانی کرے گا
سیمینار کے اختتام پر وفاقی و صوبائی اداروں نے نیشنل انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام 2026 کے مشترکہ نفاذ کے عزم کا اظہار کیا۔
این ڈی ایم اے حکام کے مطابق عوام کی جان و مال کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیح ہے، اور وزیراعظم کی خصوصی ہدایت کے تحت مون سون 2026 سے قبل تمام اہم تعمیرات کا آڈٹ مکمل کیا جائے گا۔





