ایک ملاقات سب بدل سکتی ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی کا اہم انکشاف

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو اس کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینا ہوگی، بصورت دیگر بات چیت کا عمل آگے بڑھنا مشکل ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار صرف محمود خان اچکزئی کو سونپا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس وقت ملک کی واحد مؤثر اپوزیشن جماعت ہے اور پارٹی کی جانب سے کوئی مستقل مذاکراتی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقات کروائی جائے، اس کے بعد بانی پی ٹی آئی سے پارٹی قیادت کی ملاقات ممکن بنائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ افراد ذاتی حیثیت میں مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں تو اسے برا نہیں کہا جا سکتا، تاہم ایسے اقدامات کو پی ٹی آئی کی پالیسی یا فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ انہوں نے زیرِ حراست افراد سے ملاقات کی کوشش کی، مگر انہیں اجازت نہیں دی گئی۔

بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ اس بند گلی سے واپسی کا راستہ کیسے نکلے گا۔

Scroll to Top