اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کے لیے تیار ہے اور کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔
طارق فضل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے پانچ مرتبہ انہیں اپوزیشن سے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنی صفوں میں موجود کنفیوژن کو دور کرے تاکہ سیاسی عمل میں شفافیت پیدا ہو سکے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ وزیراعظم ملک میں بہترین گورننس کا ماڈل چاہتے ہیں اور معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سیاسی ڈائیلاگ میں رکاوٹ کون؟ بلال اظہر کیانی نے واضح کر دیا
جبکہ دوسری جانب وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ سنجیدہ سیاسی بات چیت میں رکاوٹ صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف کے بانی ہیں، اور حکومت کا اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ کام طریقہ کار کے تحت ایاز صادق انجام دے رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ بات چیت نہ ہونے کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی ہیں، جو اپنے مؤقف پر قائم رہ کر مذاکرات کے عمل کو روک رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ پارٹی کے رہنما اور اس کے بانی کے بیانات میں تضاد ہو، جو تصادم کا راستہ کھولتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے این ڈی یو کی ورکشاپ میں بھی پارٹی اراکین کی شرکت کو شرمناک قرار دیا، اور یہ رویہ مذاکرات کے عمل میں رکاوٹ ہے۔
بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی صرف آگ اور زہر اگلتے ہیں اور آج تک ان کے منہ سے یہ نہیں نکلا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ پہلے بھی مذاکرات کی پیشکش پر بانی پی ٹی آئی نے اپنی ٹیم کو پیچھے ہٹا لیا اور پی ٹی آئی مذاکرات سے پیچھے ہٹتی رہی ہے۔





