حمد اللہ خان
ایبٹ آباد: ایبٹ آباد کے ٹھنڈیانی روڈ گمائوں کرش پلانٹ کے مقام پر جنگلات میں نامعلوم وجوہات کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو1122 کی دو فائر وہیکلز اور ایمبولینسز فوری طور پر موقع پر روانہ کر دی گئیں۔
ذرائع کے مطابق آگ تیزی سے پھیلتے ہوئے وسیع جنگلاتی رقبے تک جا پہنچی، جس کے پیش نظر نواں شہر اور ایبٹ آباد سے ریسکیو1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور فائر فائٹنگ آپریشن شروع کر دیا۔
دشوار گزار راستوں اور شدید اندھیرے کے باوجود ریسکیو اہلکاروں کا آگ بجھانے کا عمل جاری ہے۔
آگ کی شدت کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر حفیظ رحمان اور ایمرجنسی آفیسر فہد علی مسعود نے مزید 10 اہلکار موقع پر روانہ کر دیے۔
ریسکیو1122 کے ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا طیب عبداللہ کی ہدایات پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر آگ پر قابو پانے کی کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ملک کی ہونہار بیٹی ارفع کریم کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس بیت گئے
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مزید اضافی ریسکیو ٹیمیں طلب کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
میڈیا کوآرڈینیٹر ساجد اقبال نے شہریوں سے اپیل کی کہ آگ کے مقام سے دور رہیں اور ریسکیو1122 کے عملے کو کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
مقامی انتظامیہ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ آگ کے مقام سے دور رہیں اور کسی بھی قسم کی خطرناک سرگرمی سے گریز کریں۔
علاوہ ازیں متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں تاکہ انسانی جانوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ آگ کی وجہ سے ہوا میں دھوئیں کے بادل چھا گئے ہیں اور کئی مقامات پر دھوئیں کی شدت سے راستے بھی محدود ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ فائر فائٹنگ کے لیے جدید آلات اور پانی کے ٹینک بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، تاکہ آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے۔





