اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملہ ٹل گیا ہے اور اس وقت ایسے حالات نہیں ہیں جو حملے کے لیے موزوں ہوں۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایران میں اتحاد پیدا ہوا ہے اور حکومت کی حمایت میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بیانات نے ایران میں جذبہِ مزاحمت پیدا کیا، اور اگر یہ دھمکیاں نہ ہوتیں تو امریکی فورسز کو زیادہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
مشیرِ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایران میں انتخابات ہوتے ہیں اور لوگوں کو ووٹ کا حق حاصل ہے۔ ایران میں عقیدے، مذہب اور نظریے کی بنیاد پر مزاحمت قائم ہو رہی ہے جو خطے میں عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ افغانستان کے مسئلے کا بھی اثر پورے خطے پر پڑ رہا ہے اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا میں رجیم چینج کیا، ایران بڑا ملک ہے اور پاکستان ایران سے بھی بڑا ملک ہے، اس لیے مختلف ممالک کا آپس میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مسائل آپس میں حل کرنے چاہئیں اور حکومت مستحکم ہے، کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی جماعتوں کے معاملات کے لیے خود ذمہ دار ہیں اور کسی اور کا اختیار نہیں۔
پی ٹی آئی کو سنگجانی جانے کا کہا گیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی پورے پاکستان میں ’پہیے جام ہڑتال‘ کے لیے تیار نہیں اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں یہ ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کو اقتدار میں لانے والے عناصر دوبارہ اپنے مقاصد چاہتے ہیں، خواجہ آصف
پاکستانی سفیر برائے ایران محمد مدثر ٹیپو نے کہا کہ ایران میں پاکستانی طلبا کی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
کچھ طلبا وطن واپس بھی جا چکے ہیں۔ سفارتخانہ میں 24 گھنٹے کام کرنے والا ایک خصوصی یونٹ قائم کیا گیا ہے تاکہ طلبا کی سہولت یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں وائی فائی کی بندش کے باعث کچھ مشکلات ہیں، تاہم ہماری خواتین افسران تہران کی یونیورسٹیوں میں موجود ہیں اور طلبا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ غیر ملکی طلبا کو ایک مہینے کی چھٹی دی گئی ہے، جبکہ کچھ میڈیکل طلبا کو واپس جانے کی اجازت نہیں ملی۔
سفیر نے کہا کہ ہمارے ادارے، بارڈر اتھارٹیز اور تجارتی ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور ایران کے ذریعے ٹرانزٹ ٹریڈ بھی جاری ہے۔
آج بھی 70 کنٹینرز کینوز کے ذریعے روانہ کیے گئے ہیں۔ پاکستان سفارتخانہ روزانہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے تازہ ترین معلومات فراہم کر رہا ہے۔





