پشاور کے بہت ہی مشہور ہسپتال میں بد انتظامی و مالی بدعنوانی کا انکشاف

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ہدایت پر سیٹلائٹ ہسپتال نحقی میں بد انتظامی اور مالی بدعنوانی کی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔

انکوائری کمیٹی میں اراکین صوبائی اسمبلی اعجاز احمد اور ریحانہ اسماعیل شامل تھیں۔

نجی ٹی وی  کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہسپتال کے بینک اسٹیٹمنٹ کے مطابق آمدن اور خرچ کی گئی رقوم میں تضاد پایا گیا۔

سابق ایم ایس نے جون 2024 سے جنوری 2025 کے دوران ہسپتال کی آمدن بینک اکاؤنٹ میں جمع نہیں کروائی، اور خرچ کی گئی رقم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ سابق ایم ایس نے کمپنی کے نمائندہ سے 10 لاکھ روپے رشوت کے مطالبے کو مسترد کرنے پر سولر کمپیوٹر کی ادائیگی روک دی تھی۔

ہسپتال میں نصب جنریٹر ناکارہ پایا گیا، جبکہ اسپتال کے احاطے میں موجود ڈیبایچ، اسٹور کی ادویات اور لیبارٹری کے ساز و سامان کھلے آسمان تلے رکھے گئے تھے۔

شام و رات کی شفٹ میں ڈاکٹروں اور لیبارٹری ٹیکنیشن کے نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہ

سپتال کے گائنی وارڈ میں ماہانہ تقریباً 900 مریض آتے ہیں، مگر بلڈ بینک اور ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے ڈیلیوری صرف آپریشن کے ذریعے ممکن ہے، اور موجود مین آپریشن تھیٹر میں گزشتہ 5 ماہ سے کوئی آپریشن نہیں کیے جا رہے۔ انتھیسزیا مشین بھی خراب پائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک سے گاڑیوں کی درآمد پر اہم پابندیاں عائد کر دیں

رپورٹ کے مطابق ہسپتال کی فارمیسی ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت سے لیز پر دی گئی تھی، اور ہسپتال انتظامیہ کے پاس اس کا مکمل ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔

انکوائری رپورٹ میں اسپتال کی بہتری کے لیے اہم سفارشات شامل ہیں:

بلڈ بینک قائم کیا جائے۔
ڈاکٹروں کی کمی دور کی جائے۔
ہسپتال کی فارمیسی کی لیز ختم کی جائے۔

Scroll to Top