وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خاران میں سیکیورٹی فورسز کی مدد سے بینکوں کو لوٹنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہاکہ خاران میں 15 سے 20 افراد نے مختلف راستوں سے داخل ہونے کی کوشش کی۔ ان لوگوں کا منصوبہ بینکوں میں لوٹ مار کا تھا۔ عام بلوچوں کے پیسے جو بینک میں تھے، اسے لوٹنے کی ناکام کوشش کی گئی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچ قوم کا جھوٹا نعرہ لگانے والے اب بینک ڈکیت بن چکے ہیں۔ یہ دہشت گرد بینک ڈکیتیاں کر رہے ہیں، ہم اسٹیٹ بینک سے مل کر لائحہ عمل بنائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ دہشت گرد نیشنل بینک کے کیش کاؤنٹر سے 35 لاکھ روپے لوٹ کر لے گئے۔ خاران میں بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا۔
سرفراز بگٹی کے مطابق لوٹ مار کی عرض سے آئے 14 دہشت گرد مارے گئے، جن میں 12 کی ہلاکتیں کنفرم ہیں۔ دو مقامات پر 4 دہشت گردوں کو موقع پر ہی مارا گیا جبکہ خاران میں مقامی لوگوں کی مدد سے مزید 8 دہشت گردوں کو مارا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے ہمارے ایک کرنل اور میجرز زخمی ہوئے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہمارے جوان سیکیورٹی کے لیے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے لوگ اور حکومت سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جب بھی سڑکوں پر آ کر ایسی حرکت کریں گے مار کھائیں گے، حکومت سڑکیں بند کرنے والوں کو اب بھرپور رسپانس دیتی ہے۔ آج بلوچستان کی ہائی ویز بند نہیں ہوتیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں پرتشدد واقعات میں اگست کے بعد سے واضح کمی آئی ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ 2025 میں فورسز نے خفیہ اطلاع اور لوگوں کی مدد سے 900 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔جتنے بھی دہشت گرد مارے گئے یہ مقامی انٹیلیجنس کی بدولت مارے گئے۔





